خیبر پختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کے حلف کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں اہم آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں وفاق، رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ، گورنر خیبر پختونخوا، اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
سینیٹ انتخابات 11 نشستوں کے لیے ووٹنگ جاری پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے درمیان کانٹے دار مقابلہ
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی نے منتخب ارکان سے حلف لینے سے انکار نہیں کیا، بلکہ اسمبلی کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا تو کورم کی نشاندہی کے باعث اسپیکر نے آئینی طور پر اجلاس 24 جولائی تک ملتوی کر دیا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گورنر ہاؤس میں منتخب ارکان سے حلف لینا آئین سے ماورا عمل ہے اور اس کی کوئی آئینی بنیاد موجود نہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کو آئین کے تحت صرف جوڈیشل اختیارات حاصل ہیں، انتظامی امور میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں، مگر ہمیں سنے بغیر چیف جسٹس نے گورنر کو حلف لینے کے لیے نامزد کیا، جو قانون اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ گورنر ہاؤس میں لیے گئے حلف کو کالعدم قرار دیا جائے اور اسپیکر اسمبلی کے اختیارات کو بحال رکھا جائے۔
اس اہم آئینی موڑ پر کیس کی سماعت آئندہ چند روز میں متوقع ہے، جو صوبے میں سیاسی و قانونی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
