کراچی: (رپورٹ) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے ڈائریکٹر جنرل شہمیر بھٹو کی ہدایات پر خطرناک اور انتہائی مخدوش عمارتوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ ماہر تعمیراتی انجینئرز پر مشتمل کمیٹی برائے خطرناک عمارات کا سروے مسلسل جاری ہے، جس کے تحت ڈسٹرکٹ ساؤتھ کی 59 عمارتوں کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان میں سے 10 عمارتیں قومی تاریخی ورثے میں شامل ہیں، جبکہ باقی عمارتیں آرام باغ، لارنس کوارٹرز، نیپیئر کوارٹرز، صدر بازار، تلہ رام کوارٹرز اور اولڈ ٹاؤن جیسے اولڈ ایریاز میں واقع ہیں۔
قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر پہلے مرحلے میں ان میں سے 41 عمارتوں کو فوری طور پر مکینوں سے خالی کروا کر سیل کر دیا گیا ہے۔ ایس بی سی اے اور مقامی انتظامیہ کی مدد سے باقی عمارتوں کو بھی خالی کرانے اور آئندہ مرحلے میں انہدامی کارروائی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ایس بی سی اے نے شہریوں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپیل کی ہے کہ وہ شہر کے گنجان آباد علاقوں میں موجود خستہ حال، اندرونی یا بیرونی طور پر مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کریں۔ شہری ایس بی سی اے پورٹل پر کسی بھی وقت اطلاع رجسٹر کرا سکتے ہیں۔
مزید برآں، متوقع مون سون بارشوں کے پیش نظر ایس بی سی اے میں رین ایمرجنسی سینٹر قائم کر دیا گیا ہے، جہاں تکنیکی عملہ ہفتے کے ساتوں دن، 24 گھنٹے خدمات انجام دے رہا ہے۔
شہری درج ذیل نمبروں پر فوری رابطہ کر سکتے ہیں:
📞 99232355
📞 99230393
🌐 www.sbca.gos.pk
