راولپنڈی و اسلام آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں گزشتہ رات سے جاری موسلادھار بارش نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ جڑواں شہروں میں 230 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی جس کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔
رائٹر گلڈ ہاؤسنگ سوسائٹی کے انتخابات 2024-25 کا شفاف انعقاد، شہاب الدین غوری بلا مقابلہ صدر منتخب
نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 20 فٹ اور گوالمنڈی پل پر 19 فٹ تک پہنچ گئی، جس کے بعد خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔ واسا، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر ادارے ہائی الرٹ پر ہیں جبکہ قریبی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ایمرجنسی الرٹ اور فوج کی طلبی:
ریسکیو حکام کے مطابق کٹاریاں اور گوالمنڈی کے علاقوں میں انخلاء کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ خطرے کی صورتحال کے پیشِ نظر واسا نے ٹرپل ون بریگیڈ سے رابطہ کر کے ایمرجنسی میں فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت دی گئی ہے۔
راولپنڈی میں تعطیل کا اعلان:
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے موسم کی سنگینی کے باعث ضلع بھر میں ایک روز کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق عوام سے گھروں میں رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے اجتناب کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
جہلم و چکوال میں تباہ کن صورتحال:
جہلم اور چکوال میں بارش نے تباہی مچا دی۔ متعدد دیہات زیر آب آ گئے جبکہ چکوال کے علاقے کھیوال میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص اور ایک بچہ جاں بحق، جبکہ خاتون اور بیٹی زخمی ہو گئیں۔ چوآسیدن شاہ میں تاریخی کٹاس راج مندر بھی پانی میں ڈوب گیا۔ ضلع چکوال میں 423 ملی میٹر، کلر کہار میں 325 ملی میٹر، اور چوآسیدن شاہ میں 310 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
سیلاب ایمرجنسی نافذ، فوج طلب:
چکوال میں ضلعی انتظامیہ نے سیلابی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو فیلڈ میں موجود رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی سے نمٹنے کے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔
پنجاب میں 103 افراد جاں بحق، 393 زخمی:
پی ڈی ایم اے کے مطابق رواں مون سون سیزن میں پنجاب میں 103 افراد جاں بحق اور 393 زخمی ہو چکے ہیں۔ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 63 اموات اور 290 زخمی رپورٹ ہوئے۔ سب سے زیادہ اموات لاہور (15)، فیصل آباد (9)، ساہیوال (5)، پاکپتن (3) اور اوکاڑہ (9) سے ہوئیں۔
