شام السویدا میں شدید لڑائی حکومتی افواج پیچھے ہٹ گئیں اسرائیل کی مداخلت پر اقوام متحدہ کا اجلاس طلب

شام کے دروز اکثریتی شہر السویدا میں مقامی جنگجوؤں اور بدو قبائل کی جھڑپوں کے بعد حکومتی افواج راتوں رات پیچھے ہٹ گئیں، جبکہ اسرائیل کی فضائی بمباری سے علاقے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں ریکارڈ بارش نالہ لئی میں طغیانی نشیبی علاقوں سے انخلا شروع

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کی شام کو اسرائیل نے دمشق پر فضائی حملے کیے اور جنوبی شام میں موجود شامی افواج پر حملے تیز کر دیے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ وہ دروز اقلیت کو تحفظ فراہم کرنا چاہتا ہے اور اپنی سرحدوں کے قریب شامی فوج کی موجودگی برداشت نہیں کرے گا۔

اسرائیل رواں سال کئی بار شامی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے، اور اس نے شام کے نئے حکمرانوں کو "بمشکل چھپے ہوئے جہادی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی سرحد پر کسی قسم کی عسکری موجودگی ناقابلِ قبول ہے۔

رپورٹس کے مطابق شام کی فوج نے السویدا شہر کو خالی کر دیا ہے۔ رائٹرز کی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ فوجی قافلے رات کے اندھیرے میں شہر سے نکل گئے۔ مقامی افراد کے مطابق جمعرات کی صبح حالات پرسکون تھے، مگر شدید کشیدگی کا خدشہ باقی ہے۔

شام کے صدر احمد الشرع نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ "دروز شہریوں اور ان کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے”۔ انہوں نے بیرونی قوتوں کی جانب سے دروز برادری کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی مذمت کی اور اتحاد و استحکام پر زور دیا۔

الشرع نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ شام میں انتشار پیدا کر رہا ہے اور قومی یکجہتی کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کیا گیا ہے، جس میں اسرائیلی حملوں اور شام میں بڑھتی کشیدگی پر غور کیا جائے گا۔ اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر دانی دنون نے شامی سرزمین پر شامی حکومت کی کارروائیوں کو "وحشیانہ جرائم” قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل سے مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیلی آرمی چیف ایال زامیر نے بیان دیا کہ "ہم جنوبی شام کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے”۔

سیریئن نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس کے مطابق رواں ہفتے کے دوران تشدد میں 193 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب درجنوں اسرائیلی دروز شہری بدھ کے روز سرحد پار کرکے شامی دروز سے جا ملے۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی دروز باشندوں سے اپیل کی کہ وہ سرحد عبور نہ کریں اور قانون کا احترام کریں۔

الشرع انتظامیہ کو شام کو متحد کرنے میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسلامی طرز حکومت کے خدشات اور مارچ میں علوی اقلیت کے قتل عام کے بعد مختلف گروہوں کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو چکا ہے۔

One thought on “شام السویدا میں شدید لڑائی حکومتی افواج پیچھے ہٹ گئیں اسرائیل کی مداخلت پر اقوام متحدہ کا اجلاس طلب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!