عراق کے مشرقی شہر کوت میں ایک ہائپر مارکیٹ اور ریستوران پر مشتمل پانچ منزلہ عمارت میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں کم از کم 60 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ کئی افراد لاپتہ ہیں۔ آگ اس وقت لگی جب شہری عمارت کے اندر خریداری اور کھانے میں مصروف تھے۔
شام السویدا میں شدید لڑائی حکومتی افواج پیچھے ہٹ گئیں اسرائیل کی مداخلت پر اقوام متحدہ کا اجلاس طلب
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، کوت شہر کے محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اب تک 59 افراد کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ ایک لاش اس قدر بری طرح جھلس چکی ہے کہ اس کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔
شہر کے ایک اور اعلیٰ اہلکار علی المیاحی نے تصدیق کی کہ مزید لاشیں تاحال ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جنہیں نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
واقعے کے وقت عمارت شعلوں کی لپیٹ میں تھی، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کر رہی ہیں۔ ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں رات بھر آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتی رہیں۔
واسط صوبے کے گورنر محمد المیاحی نے واقعے کو "المناک المیہ” اور "قومی سانحہ” قرار دیتے ہوئے تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ درجنوں افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ فائر بریگیڈ نے آگ پر قابو پا لیا ہے۔
عراقی نیوز ایجنسی (INA) کے مطابق، واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور متعلقہ حکام سے 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
گورنر کے مطابق، واقعے کے بعد عمارت کے مالک اور مال کے ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج کر دیے گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، عمارت میں حفاظتی اقدامات اور فائر الارم سسٹم کا فقدان پایا گیا ہے۔
یہ واقعہ عراق میں حالیہ برسوں میں پیش آنے والے بدترین شہری سانحات میں سے ایک ہے، جس نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔
