کراچی (اسٹاف رپورٹر) آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت A پلس کیٹیگری میں شامل منشیات فروشوں، ان کے گٹھ جوڑ اور منشیات کے اڈوں کے خلاف جاری پولیس کارروائیوں کے حوالے سے سینٹرل پولیس آفس کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
کراچی میں یومِ آزادی فرانس (بیسٹیل ڈے) کی پروقار تقریب، فرانس-پاکستان دوستی کے تاریخی رشتے کا جشن
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز کراچی، اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی، ڈی آئی جیز کرائم و انویسٹی گیشن، آئی ٹی، اسٹبلشمنٹ سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے بالمشافہ شرکت کی، جبکہ زونل و ڈویژنل ڈی آئی جیز، ضلعی ایس ایس پیز اور ایس پی انویسٹی گیشنز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس کے دوران مختلف اضلاع کے ایس ایس پیز نے A پلس کیٹیگری میں شامل منشیات فروشوں کی گرفتاری، ان کے بااثر گٹھ جوڑ کی بیخ کنی، اور منشیات کے اڈوں کے خاتمے کے حوالے سے اپنی رپورٹس پیش کیں۔
آئی جی سندھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد اور دیگر کامیاب اضلاع کے ایس ایس پیز کو بہترین کارکردگی پر شاباش دی اور کہا کہ دیگر اضلاع بھی اس رفتار سے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کریں۔
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ:
"منشیات کے حوالے سے سب سے زیادہ تنقید پولیس پر ہوتی ہے، اس کی بنیادی وجہ عوام کا پولیس سے اعتماد اور کارکردگی کی توقع ہے۔ اس اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے ہمیں ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔”
انہوں نے ہدایت کی کہ بدنام علاقوں میں ناکہ بندی، مستقل پیٹرولنگ اور پولیس پکٹنگ کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان علاقوں سے منشیات کا مکمل خاتمہ ممکن ہو۔
آئی جی سندھ نے اسپیشل برانچ کو تاکید کی کہ ایسے افراد جو کسی کیس میں مطلوب نہیں اور منشیات کے دھندے سے کنارہ کش ہو چکے ہیں، انہیں فہرستوں میں شامل نہ کیا جائے تاکہ کارروائیوں کی شفافیت اور معقولیت برقرار رہے۔
غلام نبی میمن نے افسران کو ہدایت دی کہ:
-
منشیات فروش جہاں بھی ہوں، گرفتار کرکے مضبوط قانونی مقدمات قائم کیے جائیں۔
-
عدالتوں سے سزائیں دلوائی جائیں۔
-
ضمانت پر رہا منشیات فروشوں کے ضمانتیوں کا ریکارڈ بھی چیک کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر ضمانتیں منسوخ کروائی جائیں۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ منشیات کے خاتمے اور اس سے منسلک مافیاز کے گٹھ جوڑ کو توڑنا حکومت اور سندھ پولیس کی اولین ترجیح ہے، اور اس ترجیح کو ضلعی سطح پر مکمل طور پر نافذ العمل کیا جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس کی یہ کوششیں عوام تک پہنچنی چاہئیں، تاکہ عوام بھی ان اقدامات کی پزیرائی کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال ہو۔

