اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے مدارس سے متعلق آرڈیننس، ملک میں بدامنی، اور اپوزیشن کے باہمی اختلافات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں قانون سازی کے بجائے بار بار آرڈیننس کا سہارا لینا بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔
روہڑی میں بڑی کارروائی، 4 کلو کرسٹل آئس برآمد، منشیات فروش گرفتار
مولانا نے کہا کہ مدارس سے متعلق قانون سازی پارلیمنٹ سے ہو چکی ہے اور صدر مملکت نے اس پر دستخط بھی کیے تھے، لیکن بعد ازاں حکومت نے آرڈیننس جاری کیا اور اب اس کی توسیع ہو رہی ہے، قانون سازی نہیں، جو ان کے عزائم پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر تنظیماتِ مدارس اور وفاق المدارس کے فیصلے کے مطابق لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
انہوں نے ریاستی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تین چار دہائیوں سے ملک میں بدامنی ہے اور ریاست اب بھی عام شہری کو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔ مولانا نے کہا کہ اگر بھارت جیسی طاقت کو چند گھنٹوں میں شکست دی جا سکتی ہے تو 40 سال سے ملک کے اندرونی مسائل کیوں حل نہیں ہو پا رہے؟
ان کا کہنا تھا کہ ریاست اپنی ناکامیوں کا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے، اور جرگوں میں عام شہریوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، حالانکہ تمام تر ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
اپوزیشن کی تقسیم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اپوزیشن جماعتیں آپس میں ہی ایک دوسرے کے خلاف عدالتوں کا رخ کر رہی ہیں، جس سے حکومت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی اپوزیشن کے ساتھ کیا اتحاد ممکن ہے جو خود اپنے ساتھیوں کو کمزور کرنے پر تلی ہو؟
پی ٹی آئی سے تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اختلاف اپنی جگہ لیکن تلخی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ تلخ بیانات کا جواب نہیں دیتے کیونکہ مقصد تعلقات میں بہتری ہے۔
مولانا نے زور دیا کہ ریاستی سطح پر سنجیدہ بات چیت ہونی چاہیے، نہ کہ پہلے کاروائیاں اور بعد میں مذاکرات۔ ان کے بقول تلخ رویوں سے مذاکرات کا ماحول خراب ہوتا ہے۔
میثاق جمہوریت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کی جماعت اس کی بنیادی دستخط کنندہ نہیں، لیکن وہ اس کی حمایت کر چکے ہیں اور اس پر قائم ہیں۔
صوبہ سندھ کے سیاسی حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کسی پارٹی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر رہے، لیکن اگر پارٹی کے اندر سے ہی نئی قیادت آتی ہے اور صوبے کو سنبھالتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے ایک بار پھر سندھ حکومت کی اکثریت کو "جعلی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ فیصلہ کرے گی کہ ان کا مؤقف درست تھا یا نہیں۔
