قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست میں ایک بڑا بحران اُس وقت سامنے آیا جب انتہائی قدامت پسند یہودی جماعت ’یونائیٹڈ توراہ جوڈازم‘ (یو ٹی جے) کے سات میں سے چھ اراکین نے کنیسٹ (پارلیمنٹ) سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان اراکین کا تعلق دیگل ہتوراہ اور اگودات یسرائیل دھڑوں سے ہے۔
ہمایوں سعید کا عمر سے متعلق تنقید پر دوٹوک جواب ڈھیٹ بن گیا ہوں
یو ٹی جے کے چیئرمین یتسحاق گولڈکنوف ایک ماہ قبل ہی مستعفی ہو چکے تھے، جس کے بعد اب باقی ارکان کا استعفیٰ نیتن یاہو کی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکہ تصور کیا جا رہا ہے۔
گولڈکنوف کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ یو ٹی جے کے تمام 7 اراکین حکومت چھوڑ رہے ہیں۔ دیگل ہتوراہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ جماعت کے روحانی پیشوا ربی ڈو لاندو کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے مقدس یشیوا طلبا کی فوجی سروس سے استثنیٰ کے وعدوں کی بارہا خلاف ورزی کی، جس کے بعد ربّیوں سے مشاورت کر کے حکومت اور اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا گیا۔
اس فیصلے کے بعد 120 رکنی کنیسٹ میں نیتن یاہو کے پاس صرف 61 نشستوں کی کمزور اکثریت رہ گئی ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اگر مزید جماعتیں اتحاد سے نکلتی ہیں تو حکومت کا برقرار رہنا مشکل ہو جائے گا۔
فی الحال شاس پارٹی، جو ایک اور انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعت ہے، نے اپنے فیصلے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ یاد رہے کہ شاس جماعت بھی فوجی بھرتی سے استثنیٰ کے معاملے پر سخت مؤقف رکھتی ہے اور کسی بھی ایسے قانون کو ‘ریڈ لائن’ قرار دیتی ہے جس میں یشیوا طلبا کو فوجی سروس کا پابند بنایا جائے۔
گزشتہ سال اسرائیلی سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ وزارت دفاع کو فوجی سروس سے استثنیٰ ختم کرنے کی ہدایت دے، جس کے بعد نیتن یاہو نے اپنی اتحادی جماعتوں کو منانے کی بھرپور کوششیں کیں، لیکن نیا مجوزہ بھرتی بل ہی ان کے لیے سیاسی بحران کا سبب بن گیا۔
نیتن یاہو کی حکومت جو دسمبر 2022 میں قائم ہوئی تھی، اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ دائیں بازو کی حکومتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اب اس کی سیاسی بقا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
