کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے شہر میں غیر قانونی تعمیرات اور مخدوش عمارتوں کی صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سے مکمل ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایس بی سی اے کے افسران پر مشتمل 13 رکنی خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
سندھ پولیس میں گٹکا و ماوا کھانے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ، برطرفی کی وارننگ جاری
ذرائع کے مطابق یہ کمیٹی مالی سال 2021 کی پرفارمنس آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں شہر بھر میں ہونے والی غیر قانونی تعمیرات اور خطرناک عمارتوں کے خلاف ایس بی سی اے کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، کمیٹی کا بنیادی مقصد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات تیار کرنا ہے۔ ارکان ڈی جی ایس بی سی اے کے ساتھ مشاورت سے جوابات تیار کریں گے، جنہیں دو روز کے اندر ڈی جی کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ منظوری کے بعد رپورٹ کو سیکرٹری بلدیات سندھ کو ارسال کیا جائے گا تاکہ شفاف عمل درآمد کو ممکن بنایا جا سکے۔
نوٹیفکیشن میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ کمیٹی کے تمام ارکان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی آئندہ میٹنگ میں ڈی جی ایس بی سی اے کے ہمراہ شریک ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق، کمیٹی کی تشکیل چیئرمین اور ایک ممبر کی حالیہ معطلی کے بعد ازسرنو کی گئی ہے۔
