کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان کے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے واٹر کارپوریشن انتظامیہ کے ہمراہ نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر کیے گئے مبینہ چھاپے کو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
غیر قانونی تعمیرات کا ریکارڈ طلب: پی اے سی نے ایس بی سی اے کی 13 رکنی انکوائری کمیٹی قائم کردی
اپنے بیان میں علی خورشیدی نے کہا کہ چھاپے کی آڑ میں صرف نچلے گریڈ کے غریب ملازمین کو معطل کیا گیا، جبکہ ہائیڈرنٹ سیل کے انچارج اور واٹر کارپوریشن کے اعلیٰ افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جو درحقیقت پورے نظام کے اصل ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کراچی میں صرف دو ہی غیر قانونی ہائیڈرنٹس سرگرم ہیں؟ اگر نہیں تو پھر بقیہ غیر قانونی سرگرمیوں پر خاموشی کیوں ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ میئر کراچی ان عناصر کے خلاف ایکشن سے گریزاں ہیں جو اس کرپٹ نظام کی جڑ میں بیٹھے ہیں۔
علی خورشیدی نے واٹر کارپوریشن کے سی ای او اور سی او او کو مکمل طور پر نااہل قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی ناقص کارکردگی کے باعث ادارے کا مالی سال 2023-24 کا بجٹ ضائع ہوگیا۔
اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ مالی سال 2024-25 کے واٹر کارپوریشن کے بجٹ پر غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ خطیر رقم کہاں اور کن مقاصد کے لیے خرچ کی گئی، جبکہ شہر میں پانی کا نظام بدترین صورت حال سے دوچار ہے۔
علی خورشیدی نے کہا کہ کراچی سے ہر ماہ اربوں روپے کی وصولیاں ہوتی ہیں، لیکن پچھلے سال پانی کے نظام پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا، جو کہ عوام کے ساتھ سنگین مذاق کے مترادف ہے۔
