بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کے تازہ ڈرون اور راکٹ حملوں میں دو تجارتی جہاز نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں اب تک آٹھ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ واقعے کو جون 2024 کے بعد پہلا مہلک حملہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں عملے کے افراد ہلاک ہوئے۔
شمالی وزیرستان میں دو ڈرون حملے خاتون جاں بحق متعدد زخمی علاقے میں خوف و ہراس
رائٹرز کے مطابق پہلا حملہ پیر کے روز ’میجک سیز‘ نامی جہاز پر کیا گیا، جس کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کر لی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جہاز ڈوب چکا ہے، اور ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں دھماکوں، مے ڈے کال، اور جہاز کے ڈوبنے کے مناظر شامل ہیں۔ رائٹرز نے اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
کچھ ہی گھنٹوں بعد دوسرا حملہ ’ایٹرنٹی سی‘ پر کیا گیا، جس میں 22 افراد سوار تھے، جن میں 21 فلپائنی اور ایک روسی شہری شامل تھے۔ حملے کے بعد جہاز کا عملہ کھلے سمندر میں خطرناک حالات میں پھنس گیا۔
دونوں جہاز یونانی انتظام میں اور لائبیریا کے پرچم کے حامل تھے۔ واقعے کے بعد یونان نے سعودی عرب سے سفارتی سطح پر رابطہ کیا ہے تاکہ جہاز اور عملے کی حفاظت ممکن بنائی جا سکے۔
یورپی یونین کے بحری مشن ایسپائیڈز کے مطابق مزید دو افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ یونانی سیکیورٹی فرم دیالوُس اور دیگر ادارے عملے کی بازیابی میں مصروف ہیں۔ میجک سیز کے عملے کو ایک راہگیر تجارتی جہاز نے بچا کر جبوتی منتقل کر دیا۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز نے ان حملوں کو جہاز رانی کی آزادی اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے دونوں حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات علاقائی سلامتی اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں۔ واشنگٹن نے کہا ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
حوثی باغیوں کا مؤقف ہے کہ وہ یہ حملے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر کر رہے ہیں، اور ان کے نشانے پر وہ تجارتی جہاز ہوتے ہیں جن کے اسرائیل سے روابط رہے ہوں۔
2023 سے اب تک حوثیوں کی جانب سے سیکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں جن کی وجہ سے اس اہم تجارتی راستے پر ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے بھی پیر کے روز یمن کی تین بندرگاہوں اور ایک پاور پلانٹ پر حملے کیے، جو کہ ایک ماہ میں اسرائیل کا پہلا حملہ تھا۔
غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائی کے دوران 57 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جبکہ بین الاقوامی عدالت انصاف اور عالمی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات زیر سماعت ہیں، جنہیں اسرائیل مسترد کرتا ہے۔
فلپائن نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر جیسے خطرناک اور جنگ زدہ علاقوں میں سفر سے گریز کریں۔
انٹیلیجنس ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ عرصے سے حملے کم ہو گئے تھے، مگر حوثیوں کے عزائم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اور جب تک غزہ میں جنگ جاری ہے، اسرائیل سے منسلک جہاز خطرے میں رہیں گے۔
