طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس حقانی کے خلاف خواتین پر مظالم کے الزام میں عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ جاری

ہیگ (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی فوجداری عدالت (International Criminal Court – ICC) نے افغانستان میں خواتین پر مظالم اور صنفی بنیاد پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

یومِ آزادی 2025 ’’معرکۂ حق‘‘ کے عنوان سے منانے کا فیصلہ، قومی اتحاد و ترقی کو خراجِ تحسین

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، آئی سی سی کے ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسے معقول شواہد موجود ہیں جن سے شبہ ہوتا ہے کہ ان طالبان رہنماؤں نے خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق سلب کیے اور ان پر منظم انداز میں ظلم و ستم ڈھایا، جو بین الاقوامی قانون کے مطابق انسانیت کے خلاف جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اگرچہ طالبان کی جانب سے پوری افغان آبادی پر سخت قوانین مسلط کیے گئے، تاہم خواتین اور لڑکیوں کو خاص طور پر ان کی جنس کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ انہیں تعلیم، نجی زندگی، خاندان، نقل و حرکت، اظہارِ رائے، ضمیر، اور مذہب کی آزادی جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق یہ مبینہ جرائم 15 اگست 2021 کو طالبان کے افغانستان پر دوبارہ قبضے کے بعد شروع ہوئے اور کم از کم 20 جنوری 2025 تک جاری رہے۔

آئی سی سی کے ججوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان کی "صنفی پالیسی” کے تحت نہ صرف خواتین بلکہ وہ افراد بھی نشانہ بنے جن کی جنسی رجحانات یا صنفی شناخت طالبان کی نظریاتی حدود سے مختلف تھی۔

یاد رہے کہ 30 جنوری 2025 کو عالمی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست دی تھی، جس پر کئی ماہ کی سماعت کے بعد اب سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے خلاف باقاعدہ وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس حقانی کے خلاف خواتین پر مظالم کے الزام میں عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ جاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!