پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ’نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس‘ مکمل کرنے والے افسران سے خطاب کیا۔ دورے کے دوران آرمی چیف نے جدید جنگ کے بدلتے ہوئے رجحانات پر روشنی ڈالی اور ملکی دفاعی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔
ڈیفنس میں 5 کروڑ کی چوری گھریلو ملازمہ شہناز بی بی کی ضمانت کی درخواست مسترد
آئی ایس پی آر کے مطابق خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ جنگ کے نئے تقاضے ذہنی تیاری، عملی فہم، پیشہ ورانہ مہارت اور سول و ملٹری اداروں میں ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے افسران کو تلقین کی کہ وہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔
بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بھارت آپریشن سندور کے دوران اپنے عسکری اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، اور اب وہ اپنی اس ناکامی کو غیر منطقی جوازوں سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناکامی دراصل بھارت کی کمزور اسٹریٹیجک دور اندیشی کی عکاس ہے۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی دہائیوں پر مشتمل حکمت عملی، مقامی صلاحیت، اور مضبوط ادارے ہماری اصل طاقت ہیں، جن کی وجہ سے بھارت پاکستان کی کامیابی تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خالص دو طرفہ فوجی تصادم میں بیرونی قوتوں کو شامل کرنا بھارت کی سیاسی ناکامی کا ثبوت ہے۔
پاک فوج کے سربراہ نے بھارت کے اس الزام کو بھی مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ چین نے جنگ کے دوران پاکستان کو بھارتی تنصیبات کی معلومات فراہم کیں۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ بھارت کے یہ بیانات جھوٹے اور خطے میں اپنی "فرضی بالادستی” کے دعوے کو مضبوط کرنے کی ناکام کوشش ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا:
"ہماری آبادی، فوجی اڈوں، اقتصادی مراکز اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا شدید، گہرا، تکلیف دہ اور سوچ سے بڑھ کر سخت جواب دیا جائے گا۔”
انہوں نے آخر میں کہا کہ خطے کے اکثر ممالک بھارت کی جارحانہ حکمت عملی اور ہندوتوا نظریے سے پریشان ہیں، جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
