گورنر خیبرپختونخوا کا کردار آئینی حدود میں ہونا چاہیے سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت ناقابل قبول ہے مینا خان آفریدی

خیبرپختونخوا کی صوبائی وزیر تعلیم مینا خان آفریدی نے گورنر خیبرپختونخوا کی سیاسی سرگرمیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر آئین کے تحت ریاست کا نمائندہ ہوتا ہے، کسی سیاسی جماعت کا ترجمان نہیں۔
زائرین کی سہولت کے لیے حکومت کا اہم اقدام ایران و عراق کی پروازوں میں اضافہ فیری سروس شروع کرنے کا فیصلہ

صوبائی وزیر نے کہا کہ گورنر کا کام غیر جانبدار رہ کر آئینی دائرے میں فرائض انجام دینا ہے، لیکن موجودہ گورنر اپوزیشن کی زبان بول کر نہ صرف اپنے عہدے کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ آئینی حلف کی بھی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

انہوں نے گورنر ہاؤس کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنانے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ طرزعمل آئین کے منافی ہے اور صوبے کے عوام اس جانبداری کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

مینا خان آفریدی کا کہنا تھا:

"اگر گورنر سیاسی مداخلت سے باز نہ آئے تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔ وہ ریاست کے نمائندے ہیں، سیاسی جماعت کے نہیں۔”

انہوں نے زور دیا کہ ہم گورنر ہاؤس میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں کو مسترد کرتے ہیں اور گورنر کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر اس رویے کے خلاف عوامی سطح پر شدید ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “گورنر خیبرپختونخوا کا کردار آئینی حدود میں ہونا چاہیے سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت ناقابل قبول ہے مینا خان آفریدی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!