پاکستانی شوبز سے وابستہ کئی معروف شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ایک بار پھر بھارت میں بلاک کر دیے گئے ہیں، حالانکہ صرف ایک روز قبل ان پر عائد پابندیاں خاموشی سے ہٹا لی گئی تھیں۔ اس اچانک یوٹرن نے سوشل میڈیا پر نئے سوالات اور قیاس آرائیاں جنم دے دی ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کردار آئینی حدود میں ہونا چاہیے سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت ناقابل قبول ہے مینا خان آفریدی
متاثرہ شخصیات میں شامل ہیں:
یمنہ زیدی، دانش تیمور، ماورا حسین، احد رضا میر اور صبا قمر جیسے صفِ اول کے فنکار، جن کے انسٹاگرام ہینڈلز پر اب بھارتی صارفین کو یہ پیغام نظر آتا ہے:
"یہ اکاؤنٹ بھارت میں دستیاب نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس مواد کو محدود کرنے کی قانونی درخواست کی تعمیل کی ہے۔”
یکم جولائی کو مختصر طور پر پاکستانی فنکاروں کے انسٹاگرام اور یوٹیوب چینلز بھارتی صارفین کے لیے دوبارہ دستیاب ہو گئے تھے، جس سے امید کی کرن پیدا ہوئی تھی کہ شاید ثقافتی روابط میں بہتری آ رہی ہے۔ تاہم، اگلے ہی روز یہ تمام اکاؤنٹس دوبارہ بلاک کر دیے گئے۔
بھارتی تنظیم کا ردعمل
"آل انڈین سینی ورکرز ایسوسی ایشن (AICWA)” نے پاکستانی فنکاروں کی انسٹاگرام پر واپسی کی سخت مخالفت کی تھی۔ تنظیم نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستانی مواد اور شخصیات کو بھارتی پلیٹ فارمز پر مکمل طور پر روکا جائے۔
دلچسپ تضاد
جہاں پاکستانی اداکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس محدود کیے گئے ہیں، وہیں بھارت میں پاکستانی یوٹیوب چینلز اور ڈرامے تاحال دستیاب اور اسٹریمنگ کے لیے کھلے ہیں، جو اس پالیسی میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
