وزیر اعظم کی ہدایت پر حجاج اور زائرین کو درپیش سفری مشکلات کے حل کے لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت خصوصی ٹاسک فورس کا اہم اجلاس ہوا، جس میں زائرین کے لیے پروازوں کی تعداد میں اضافہ، فیری سروس کے اجراء اور سیکیورٹی سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
لیاری بغدادی میں پانچ منزلہ عمارت گر گئی، 5 افراد جاں بحق، 25 سے زائد کے دبے ہونے کا خدشہ
اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز چوہدری سالک حسین، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
فیصلے اور اقدامات:
ایران جانے والی پروازوں کی تعداد 6 سے بڑھا کر 15 کر دی گئی۔
اربعین کے دوران عراق کے لیے 107 خصوصی پروازیں چلائی جائیں گی۔
مستقبل میں زائرین کے لیے فیری سروس شروع کی جائے گی۔
عاشورہ کے بعد اربعین کے سیکیورٹی حالات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔
زمینی راستے کھولنے سے متعلق فیصلہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح حجاج کرام اور زائرین کی حفاظت اور سہولت ہے۔ انہوں نے ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ زیارت کی آڑ میں کسی کو غیر قانونی طور پر عراق جانے نہ دیا جائے۔
اجلاس میں ایک اور بڑا فیصلہ یہ کیا گیا کہ یکم جنوری 2026 سے صرف گروپ آرگنائزرز کے ذریعے حجاج کو بھیجا جائے گا، اور موجودہ "سالار” سسٹم ختم کر دیا جائے گا۔ اس نئے سسٹم کے لیے اب تک 1,413 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن کی جانچ جاری ہے۔
اجلاس میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری مذہبی امور، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی سول ایوی ایشن، آئی جی بلوچستان، کمشنر کوئٹہ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
