غزہ میں اسرائیلی حملے اسکول پر بمباری امدادی مراکز پر فائرنگ خواتین اور بچے سمیت 23 فلسطینی شہید

انادولو ایجنسی اور اے ایف پی کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، غزہ پر اسرائیل کے جاری فضائی و زمینی حملوں میں آج فجر کے بعد سے کم از کم 23 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں خواتین، بچے اور امداد کے متلاشی عام شہری شامل ہیں۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کی قیادت میں نااہلی ریفرنس تیار اپوزیشن ارکان کے خلاف شواہد الیکشن کمیشن کو بھجوائے جائیں گے

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے مغربی غزہ کے الرِمال محلے میں واقع مصطفیٰ حافظ اسکول کو نشانہ بنایا، جہاں بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے۔ حملے میں 12 افراد شہید ہوئے، جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔

سول ڈیفنس اہلکار محمد المغیر نے اے ایف پی کو بتایا کہ "یہ پناہ گاہ جنگ زدہ خاندانوں کے لیے آخری امید تھی، مگر اسرائیلی بمباری نے اسے بھی موت کا مرکز بنا دیا۔”

“امی! میں نہیں مروں گا، کچھ امداد لے کر آؤں گا”

دوسری جانب جنوبی غزہ کے نصر ہسپتال میں ایک دردناک منظر اس وقت سامنے آیا جب ماں اسمہان شعت نے اپنے 23 سالہ بیٹے احمد شعت کی لاش کو لپٹا، جو امدادی مرکز سے کھانے پینے کا سامان لینے گیا تھا مگر واپس نہ آ سکا۔

الجزیرہ کے مطابق احمد کو اُس وقت گولی ماری گئی جب رفح میں واقع غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے امدادی مرکز کے قریب اسرائیلی فوج نے ہجوم پر فائرنگ کی۔

احمد کے کزن مازن شعت کے مطابق، "وہ کہتا تھا، امی میں نہیں مروں گا، مگر وہ لوٹ کر نہ آیا۔”

GHF مراکز "موت کے پھندے” بن گئے

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ صرف ایک ماہ میں GHF مراکز کے قریب فائرنگ اور بمباری سے 600 فلسطینی شہید اور 4200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان مراکز پر روزانہ بنیاد پر اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ امدادی مراکز "امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ کو نظرانداز کر کے بنائے گئے، جو اب موت کے پھندے بن چکے ہیں۔”

نیتن یاہو کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان

دریں اثناء، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی دباؤ کے باوجود جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں "حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے” کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اشکیلون میں پائپ لائن تنصیب کے دورے کے دوران نیتن یاہو نے کہا:

"ہم اپنے تمام یرغمالیوں کو آزاد کرائیں گے اور حماس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، یہ تنظیم اب مزید باقی نہیں رہے گی۔”

ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں تشدد کا سلسلہ فوری طور پر تھمنے والا نہیں، جبکہ انسانی المیہ شدت اختیار کر چکا ہے۔

One thought on “غزہ میں اسرائیلی حملے اسکول پر بمباری امدادی مراکز پر فائرنگ خواتین اور بچے سمیت 23 فلسطینی شہید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!