اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے حکومت کی جانب سے امریکا میں کیس میں فریق نہ بننے کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا۔
اسحٰق ڈار کا اسلام آباد میں خطاب بھارت کی جارحیت اور اسرائیلی مظالم پر شدید ردعمل
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومتِ پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس میں امریکا میں فریق نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اس اہم فیصلے کی وجوہات کیا ہیں؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کوئی بھی فیصلہ بغیر وجوہات کے نہیں کیا جا سکتا، حکومت یا اٹارنی جنرل جب کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے پیچھے قانونی و آئینی بنیاد ضرور ہوتی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ ایک آئینی عدالت ہے، یہاں زبانی بیانات کافی نہیں، وجوہات کا تحریری طور پر بیان ضروری ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر حکومت کے فیصلے کی وجوہات سے عدالت کو تفصیل سے آگاہ کیا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 4 جولائی، بروز جمعہ تک ملتوی کر دی۔
