اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کی اعلیٰ قیادت کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کو اپنے "جرائم” کی قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل، ایران میں نئے اور مختلف نوعیت کے اسٹریٹجک اہداف پر حملے شروع کرنے والا ہے تاکہ ریاستِ اسرائیل پر منڈلاتے خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے اور آیت اللہ کے نظام کو "جھنجھوڑا” جا سکے۔
حکومت نے پیپلز پارٹی کے بڑے مطالبات مان لیے بجٹ منظوری کی راہ ہموار
وزیرِ دفاع کے ان بیانات سے یہ تاثر تو ضرور ملا ہے کہ اسرائیل خطے میں جارحانہ پالیسی کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اسرائیلی حکومت نے خامنہ ای کو براہِ راست نشانہ بنانے کا کوئی باضابطہ حکم جاری کیا ہے یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تک ایسے کسی اقدام سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا رہے ہیں، تاکہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کی راہ مکمل طور پر مسدود نہ ہو۔
اس سے قبل، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی ایران پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ X (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا:
’’آج صبح ایران کے دہشت گرد حکمرانوں نے بیئر شیبع کے سوروکا اسپتال اور ملک کے وسطی علاقوں میں شہری آبادی پر میزائل داغے، ہم تہران کے ظالم حکمرانوں سے اس کا پورا حساب لیں گے۔‘‘
تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے ایران کو دی گئی یہ کھلی دھمکیاں خطے میں کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتی ہیں، جس کے عالمی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
