وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-25 کے بجٹ کی منظوری کے لیے اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چار بڑے مطالبات تسلیم کر لیے، جس کے بعد قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
2024 میں 12 فیصد پاکستانیوں نے بڑھتے گھریلو اخراجات کے باعث قرض لیا کارانداز پاکستان سروے
بدھ کے روز قومی اسمبلی میں جاری بجٹ بحث کے دوران ڈپٹی وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحٰق ڈار نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان تفصیلی مشاورت کے بعد حکومتی سطح پر کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
پی پی پی کے مطالبات اور حکومتی فیصلے:
سولر پینلز پر جی ایس ٹی میں کمی: حکومت نے سولر پینلز پر مجوزہ 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کم کر کے 10 فیصد کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم پیپلز پارٹی اب بھی اسے مزید کم کر کے 5 فیصد تک لانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ڈیجیٹل سروسز پر ٹیکس کا اختیار صوبوں کے پاس برقرار: پی پی پی کے اس تحفظ پر حکومت نے اتفاق کیا کہ ڈیجیٹل سروسز پر سیلز ٹیکس کا اختیار بدستور صوبوں کے پاس ہی رہے گا۔
جامعات کے لیے فنڈز کی بحالی: سندھ کی جامعات کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے پی ایس ڈی پی فنڈنگ کو 2.6 ارب روپے سے بڑھا کر اصل رقم 4.7 ارب روپے کر دی گئی ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کا کنٹرول: غیر فعال پی ڈبلیو ڈی منصوبوں کو تینوں صوبوں کے حوالے کرنے پر نظر ثانی کی جائے گی جبکہ پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (PIDCL) اب تمام صوبوں میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرے گی۔
ڈپٹی وزیراعظم نے واضح کیا کہ یہ فیصلے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر کے ساتھ مشاورت کے بعد کیے گئے ہیں تاکہ بجٹ میں موجود تنازعات کا خاتمہ ہو سکے۔
تنخواہوں میں اضافہ اور آئی ایم ایف سے رابطہ:
ڈار کے مطابق، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ابتدائی طور پر 6 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جو اب بڑھا کر 10 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اضافی اخراجات کی تلافی کے لیے حکومت نے آئی ایم ایف سے بات چیت شروع کر دی ہے۔
پی پی پی کے رہنما سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے حکومتی اقدامات کو سراہا اور کہا کہ اب ان کی جماعت بجٹ کی حمایت میں ووٹ دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے ساتھ ہونے والے “سوتیلے سلوک” پر ہماری آواز سنی گئی، جس کے بعد اب معاملات طے پا چکے ہیں۔
