خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایرانی ایجنسی ارنا کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کی صبح ایران کی جانب سے کیے گئے حملے میں اسرائیلی فوج کے کمانڈ اینڈ انٹیلیجنس ہیڈکوارٹر اور جنوبی شہر بیر شیبع میں واقع سوروکا میڈیکل سینٹر کے قریب موجود انٹیلیجنس کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع کی خامنہ ای کو دھمکی ایران میں نئے اسٹریٹجک اہداف پر حملوں کا اعلان
ایرانی میڈیا کے مطابق حملے کا مقصد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا، تاہم اسپتال کے قریب حملے سے دھماکوں کی شدت کے باعث معمولی نقصان ہوا۔
روسی خبررساں ادارے ’آر ٹی‘ نے حملے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی ہیں جن میں سوروکا اسپتال، تل ابیب اسٹاک ایکسچینج اور دیگر عمارتوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج سمیت کئی عمارتیں خالی کرالی گئی ہیں۔
ایرانی اخبار تہران ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں گیو یام ٹیکنالوجی پارک میں واقع ایک فوجی انٹیلیجنس مرکز بھی ہدف بنایا گیا، جو اسرائیل کے جنوبی حصے میں واقع ہے۔
اسرائیلی ردعمل:
اسرائیلی میڈیا نے سوروکا اسپتال پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملے میں کم ازکم 47 افراد زخمی ہوئے، جن میں 6 کی حالت تشویشناک ہے۔ وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا:
’’آج صبح ایران کے دہشت گردوں نے بیر شیبع میں سوروکا اسپتال اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا، ہم تہران کے ظالم حکمرانوں سے اس کا پورا حساب لیں گے۔‘‘
اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ حملہ ایران کے آپریشن "وعدہ صادق 3” کے تحت کیا گیا، جس میں بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ آئی ڈی ایف کے مطابق، میزائل حملے کے بعد مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو بم شیلٹرز میں منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
دی ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک روکا گیا ایرانی میزائل کا ٹکڑا وسطی اسرائیل میں ایک ہائی وے پر کار سے ٹکرا گیا، جس کے باعث ایک شہری زخمی ہوا، جس کی حالت اب بہتر ہے۔
حوثی باغیوں کا اعلان:
ادھر، یمن میں ایرانی حمایت یافتہ انصار اللہ (حوثی) گروپ نے ایک بار پھر اسرائیل پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
حوثی رہنما مہدی المشاط نے کہا:
’’جب تک اسرائیل غزہ میں جارحیت بند نہیں کرتا، ہماری حمایت اور کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘‘
حوثیوں نے حالیہ مہینوں میں نہ صرف اسرائیل پر میزائل داغے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے سمندری راستوں پر بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
تجزیہ:
تازہ صورتحال ایک نئے علاقائی بحران کو جنم دے رہی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست کشیدگی میں یہ حملے سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی حکمت عملی بھی آزمائش سے دوچار ہو رہی ہے۔
