امریکی بحری بیڑے کی مشرق وسطیٰ منتقلی، چین کا سخت ردعمل: ٹرمپ کا بیان جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف قرار

امریکی بحری بیڑے کی مشرق وسطیٰ منتقلی کے بعد دنیا بھر میں سفارتی اور عسکری سطح پر ہلچل مچ گئی ہے، جبکہ چین نے ایران اور اسرائیل کے بڑھتے تنازع پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سندھ حکومت کی پلاسٹک تھیلیوں پر پابندی؛ کے ایم سی کا بڑا ایکشن، 9 ٹن تھیلیاں ضبط

ذرائع کے مطابق، 36 گھنٹے قبل جنوبی چین کے سمندر میں موجود ایک انتہائی طاقتور امریکی بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جو 12 ایف-22 ریپٹر اور ایف-35 طیاروں سے لیس ہے۔ یہ بحری بیڑا دو سے چار روز میں مشرق وسطیٰ پہنچنے کی توقع ہے۔

اگرچہ امریکی حکام کی جانب سے بحری بیڑے کی منتقلی پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم اسی کے اگلے روز چینی وزارت خارجہ کی طرف سے اہم ردعمل سامنے آیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گوجیاکن نے ایک پریس بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ کے ایران سے متعلق حالیہ بیان کو "جلتی پر تیل ڈالنے” کے مترادف قرار دیا۔
انہوں نے ٹرمپ کے بیان کو غیر ذمے دارانہ اور دھمکی آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی زبان تنازع کو مزید شدت دے سکتی ہے۔

گوجیاکن کا کہنا تھا کہ چین تمام فریقین سے تحمل، مذاکرات اور پرامن حل کی اپیل کرتا ہے اور یکطرفہ یا اشتعال انگیز اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پیر اور منگل کی درمیانی شب ایران نے اسرائیل پر تبعی اثرات کے حامل حملے کیے، جن میں مبینہ طور پر موساد ہیڈکوارٹر، ایک ریفائنری، اور دیگر دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ ان حملوں سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو فوری طور پر خالی کرنے کی دھمکی دی تھی، جسے عالمی مبصرین نے جنگی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

چین کے مؤقف اور امریکی عسکری سرگرمیوں کے باعث ایران-اسرائیل تنازع میں عالمی سطح پر مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ کئی عالمی طاقتیں امریکی مداخلت پر ردعمل دینا شروع کر چکی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!