کراچی: آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں امن و امان اور جرائم کی روک تھام کے حوالے سے پولیس کارکردگی کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی پی ایل سی چیف زبیر حبیب، کراچی سمیت سندھ بھر کے ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز اور شعبہ تفتیش کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
نیو کراچی میں 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ، عوام کا جینا دوبھر — شعیب بن ظہیر
اجلاس میں اغواء برائے تاوان کے کیسز، ہائی وے پر ڈکیتیوں کی روک تھام، مفرور و مطلوب ملزمان کی گرفتاری، اور جرائم کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ زونل و ڈویژنل افسران نے اپنے اپنے اضلاع کی کارکردگی رپورٹ پیش کی۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے مغوی افراد کی بازیابی اور اغواء برائے تاوان کے کیسز میں تسلی بخش کارکردگی پر ڈی آئی جیز ویسٹ، سکھر، اور لاڑکانہ کو شاباش دی۔ انہوں نے کہا:
"میری خواہش اور عزم ہے کہ صوبے سے اغواء برائے تاوان کی شکایات کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔”
انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ جرم کئی بار ختم ہونے کے بعد دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے، لیکن پولیس کی مسلسل کوششوں سے درجنوں شہریوں کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ ہنی ٹریپ کو ایک منظم صنعت قرار دیتے ہوئے کہا:
"آپ نے بڑی محنت سے ہنی ٹریپ جیسے حساس معاملے پر قابو پایا ہے۔”
آئی جی سندھ نے بتایا کہ سندھ پولیس نے ہائی وے پر شہریوں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے ہائی وے پیٹرولنگ یونٹ قائم کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ احتجاج، دھرنوں اور ٹریفک جام کی آڑ میں ڈکیتیوں کی شکایات موصول ہو رہی ہیں، جنہیں فوری روکنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ:
تمام کیسز اور ملزمان کا ڈیٹا PSRMS میں لازمی درج کیا جائے۔
گرفتار ملزمان کی شناخت پریڈ اور عدالتوں سے ان کے شناختی کارڈز بلاک کروائے جائیں۔
تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں اور خوش اخلاق عملہ تعینات کیا جائے۔
ڈی آئی جیز تھانوں میں غیر ضروری تبادلوں پر کڑی نظر رکھیں۔
اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ سندھ پولیس جرائم کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گی۔؎

