ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایران پر اسرائیلی حملے کو سختی سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے خطے کو عدم استحکام اور تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر حملہ کھلی اشتعال انگیزی ہے، جو ایسے وقت میں کیا گیا جب ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے تھے۔
اردوان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے غزہ میں غیر انسانی اقدامات پر عالمی سطح پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اس دباؤ سے بچنے کے لیے نیتن یاہو حکومت نے ایک نئی جنگ چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو اور اس کی حکومت دنیا کو مکمل تباہی کی طرف لے جا رہی ہے اور اسے ہر صورت میں روکا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں ایران پر بڑا حملہ کیا ہے، جس میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری، پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی اور چھ اہم جوہری سائنسدان شہید ہو گئے ہیں۔ اسرائیل نے حملے میں ایران کے جوہری اور عسکری مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم پانچ شہری شہید اور پچاس کے قریب زخمی ہوئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔
