بھارت کا ہائپرسونک میزائل تجربے کی تیاری، خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ: پاکستان کے تحفظات

نئی دہلی/اسلام آباد: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جنگی عزائم کے تحت بھارت نے انتہائی جدید ہائپرسونک میزائل ET-LDHCM کے تجربے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ میزائل ڈی آر ڈی او کے خفیہ منصوبے ’’پروجیکٹ وشنو‘‘ کے تحت تیار کیا گیا ہے، جسے ایشیا میں طاقت کے توازن کو بدلنے والا گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ کا بغداد سمیت خلیجی ممالک سے سفارتی عملے کا انخلا، ایران سے ممکنہ کشیدگی کا خدشہ

یہ میزائل آواز کی رفتار سے آٹھ گنا زیادہ، یعنی تقریباً 11,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی رینج 1500 کلومیٹر تک ہے اور یہ ایک سیکنڈ میں 3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔ یہ میزائل 1000 سے 2000 کلوگرام وزنی نیوکلیئر یا روایتی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور زمین، فضاء یا سمندر سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہائپرسونک میزائل کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے نہ صرف ریڈار سے بچ سکتا ہے بلکہ اپنی سمت بھی بدل سکتا ہے، جو دشمن کے بحری بیڑوں اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ بھارت کا یہ اقدام اسے امریکہ، روس اور چین جیسے جدید اسلحہ ساز ممالک کی صف میں لا کھڑا کرے گا۔

پاکستان نے اس پیش رفت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم خطے میں طاقت کے عدم توازن کو مزید بگاڑ دے گا اور اسلحے کی نئی دوڑ کا آغاز کرے گا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد نے ہمیشہ اعتماد سازی، اسلحہ کنٹرول اور پُرامن مذاکرات پر زور دیا ہے اور بطور نیٹ ریجنل سٹیبلائزر، پاکستان کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کرتا ہے۔ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے، لیکن قومی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

One thought on “بھارت کا ہائپرسونک میزائل تجربے کی تیاری، خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ: پاکستان کے تحفظات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!