امریکہ کا بغداد سمیت خلیجی ممالک سے سفارتی عملے کا انخلا، ایران سے ممکنہ کشیدگی کا خدشہ

واشنگٹن/بغداد: امریکا نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں قائم اپنے سفارت خانے سے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کے جلد انخلا کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے انخلا کی وجہ واضح نہیں کی گئی، تاہم عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات میں ناکامی کے خدشے کے پیش نظر یہ اقدام ممکنہ طور پر فوجی تصادم کی پیش بندی ہے۔

ایئر انڈیا حادثہ: زندہ بچ جانے والے مسافر کے اہم انکشافات، “ٹیک آف کے 30 سیکنڈ بعد دھماکہ ہوا”

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا نہ صرف عراق بلکہ کویت، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستوں سے بھی اپنے سفارتی عملے اور فوجی اہلکاروں کے خاندانوں کو نکالنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار نے کہا کہ عالمی مشنز میں عملے کی تعیناتی کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے اور تازہ تجزیے کے بعد عراق میں عملے کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے پر مذاکرات کئی ہفتوں سے جاری ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا کہ اب وہ اس بات پر کم پراعتماد ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی روک دے گا۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو سے 40 منٹ طویل کال کی، جسے "تناؤ سے بھرپور” قرار دیا گیا۔

ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصرزادے نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور امریکا نے حملے کی کوشش کی، تو ایران خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کویت، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک سے فوجی اہلکاروں کے خاندانوں کی واپسی کی منظوری دے دی ہے۔

پینٹاگون نے کانگریس کو بتایا ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں کہ ایران ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار کی تیاری کے قریب پہنچ رہا ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا افزودگی پروگرام صرف سویلین توانائی کے لیے ہے۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (رائل نیوی کی ذیلی تنظیم) نے بھی مشرق وسطیٰ میں بڑھتے فوجی تناؤ کے باعث جہاز رانی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق فی الحال عراق میں امریکا کے 2500 فوجی تعینات ہیں۔

52 / 100 SEO Score

One thought on “امریکہ کا بغداد سمیت خلیجی ممالک سے سفارتی عملے کا انخلا، ایران سے ممکنہ کشیدگی کا خدشہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!