آئندہ مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کا حجم 17 ہزار 600 ارب روپے ہوگا۔ پچھلے سال کے بجٹ کا حجم 18 ہزار 700 ارب روپے تھا۔ رواں بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف 14 ہزار 200 ارب روپے رکھا گیا ہے، جبکہ نان ٹیکس آمدن 4 ہزار 500 ارب روپے متوقع ہے۔
بی بی ایل اور ڈبلیو بی بی ایل ڈرافٹ پاکستانی و عالمی کرکٹرز کی بھرپور شرکت 19 جون کو انتخابی مرحلہ ہوگا
کل متوقع آمدن 19 ہزار 400 ارب روپے ہوگی جس میں سے 8 ہزار ارب روپے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو منتقل کیے جائیں گے، یوں وفاق کے پاس 6 ہزار ارب روپے بچیں گے۔ بجٹ خسارہ 6200 ارب سے 7 ہزار ارب روپے کے درمیان متوقع ہے۔
وفاقی اخراجات کا تخمینہ 17 ہزار 573 ارب روپے لگایا گیا ہے، جن میں کرنٹ اخراجات کا حصہ 16 ہزار 286 ارب روپے ہوگا۔ دفاعی بجٹ کے لیے 2550 ارب روپے، قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8200 ارب روپے، اور پنشن کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7.5 سے 10 فیصد اور پنشن میں 5 سے 12.5 فیصد اضافے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا جانے کا امکان ہے۔ تعلیم کے لیے 13 ارب 58 کروڑ اور صحت کے لیے 14 ارب 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
معاشی اہداف میں جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4.2 فیصد، مہنگائی 7.5 فیصد، زراعت 4.5 فیصد، صنعت 4.3 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 4 فیصد ترقی کا ہدف رکھا گیا ہے۔
برآمدات کا ہدف 35 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 65 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ ترسیلات زر کا ہدف 39 ارب 43 کروڑ
