اسلام آباد: اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق پاکستان کو گزشتہ چار دہائیوں کے دوران قدرتی آفات سے شدید معاشی و جانی نقصانات کا سامنا رہا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف سیلابوں کے باعث ملک کو 36 ارب 40 کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق 44 سالوں میں پاکستان میں 109 چھوٹے بڑے سیلاب آئے، جن میں سب سے زیادہ سیلاب 2015 سے 2019 کے درمیان ریکارڈ کیے گئے۔
اس کے علاوہ ان برسوں میں آنے والے 30 زلزلوں سے ملک کو 5 ارب 34 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچا۔
موسمیاتی شدت جیسے کہ ہیٹ ویوز، غیر معمولی بارشیں اور خشک سالی کے باعث 2,741 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ان ماحولیاتی اثرات سے ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔
اقتصادی سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 44 سالوں میں پاکستان میں 30 بڑے طوفان آئے، جن سے ایک ارب 71 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ اسی عرصے میں لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے اور مٹی کے تودوں کے واقعات نے مجموعی طور پر 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا مالی نقصان پہنچایا۔
رپورٹ میں ماہرین نے زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فوری اور دیرپا پالیسی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں تاکہ انسانی جانوں اور ملکی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
