اسلام آباد: حکومت پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے لیے قومی ترقیاتی بجٹ کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کی مجموعی مالیت 4223 ارب روپے سے زائد ہوگی۔ اس بجٹ کا مقصد ملک میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنا، عوامی سہولیات کو بہتر بنانا اور معیشت میں استحکام پیدا کرنا ہے۔
8 جون سمندروں کا عالمی دن ہمیں وہ بچانا ہے جو ہمیں بچا رہا ہے کے عنوان کے تحت تحفظ کی اپیل
حکومتی دستاویزات کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1000 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرامز (ADPs) کے لیے 2869 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
پلاننگ کمیشن کے مطابق وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 682 ارب روپے سے زائد رکھے گئے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 70 ارب 38 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کو 226 ارب 98 کروڑ، پاور ڈویژن کو 90 ارب 22 کروڑ اور واٹر ریسورسز ڈویژن کو 133 ارب 42 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 39 ارب 48 کروڑ، نیشنل ہیلتھ سروسز کو 14 ارب 34 کروڑ اور فیڈرل ایجوکیشن و پروفیشنل ٹریننگ کو 18 ارب 58 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ریلوے ڈویژن کو 22 ارب 41 کروڑ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو 21 ارب، وزارت داخلہ کو 12 ارب 90 کروڑ، جب کہ سپارکو کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 5 ارب 41 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
انضمام شدہ اضلاع کے لیے 65 ارب 44 کروڑ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 82 ارب روپے، اور اسپیشل ایریاز کے لیے 253 ارب 23 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور شفافیت کے لیے نیا نظام متعارف کرانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ قومی وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
