امریکا میں موجود پاکستانی پارلیمانی وفد کے سربراہ اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو جامع مذاکرات کی میز پر لانے میں فعال کردار ادا کریں۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں بلاول نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم مسئلہ کشمیر مذاکرات کا بنیادی نکتہ ہونا چاہیے۔
اسٹیٹ بینک کا چھوٹے کاروبار کے لیے فنانسنگ قوانین پر نظرثانی کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تقریباً ایک ارب 70 کروڑ عوام کو غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دینا چاہیے۔ بھارت کی جنگ کو دہشتگردی کا ردعمل بنا کر پیش کرنے کی پالیسی ایک خطرناک رجحان ہے۔
وفد کے رکن اور سابق وزیر دفاع خرم دستگیر نے خبردار کیا کہ بھارت نے اگر اشتعال انگیزی جاری رکھی تو خطہ جوہری جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو بین الاقوامی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
خرم دستگیر نے مزید کہا کہ کسی ملک نے دورے کے دوران پاکستان پر دہشتگرد تنظیموں سے متعلق براہ راست الزام نہیں لگایا، بلکہ وہ صرف یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا پاکستان ان عناصر کا مکمل صفایا کر چکا ہے۔
سینیٹر شیری رحمٰن نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بھارت جنوبی ایشیا میں ایک خطرناک "نیو ایبنارمل” اسٹریٹجک ماحول تشکیل دے رہا ہے جو مسلسل کشیدگی کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی اور الفاظ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بھارتی پالیسی امن کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 87 گھنٹے کی حالیہ جنگ خطرناک حد تک جوہری دہلیز کے قریب پہنچی تھی، اور عالمی برادری کو بروقت مداخلت کرنی چاہیے۔ بھارتی میڈیا کی اشتعال انگیزی اور عسکری بیانات خطے میں پائیدار امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
شیری رحمٰن نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن صرف اصولی اور مستقل مذاکراتی عمل سے ہی ممکن ہے، اور دنیا کو بھارتی "ٹریلر” نما بیانات کے پیچھے چھپے خطرے کو پہچاننا ہوگا۔
