اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے فنانسنگ قوانین کا جامع جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایس ایم ایز کے لیے مالیاتی نظام تک پائیدار، ذمہ دار اور جامع رسائی کو فروغ دینا ہے، تاکہ وہ ملکی معیشت میں اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کر سکیں۔
بینک کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ترمیم شدہ قوانین ایسے طریقہ کار کو واضح کریں گے جس کے تحت ایس ایم ایز کو بینکوں سے قرض کے حصول میں آسانی ہو، اور قرض کی ادائیگی کے لیے سہولتیں بھی فراہم کی جائیں۔
واضح رہے کہ ملک کی جی ڈی پی میں 40 فیصد حصہ ڈالنے اور 80 فیصد غیر زرعی ملازمتیں فراہم کرنے والے یہ ادارے طویل عرصے سے مالیاتی عدم توجہ کا شکار رہے ہیں۔ موجودہ نجی بینک صرف 6 فیصد قرض ہی اس اہم شعبے کو فراہم کرتے ہیں۔
یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ملک میں روزگار کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور پچھلے تین سالوں میں شرح نمو محض 1.7 فیصد رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے اس جائزے کا مقصد بینکوں کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ترغیب دینا، اور فن ٹیکس و دیگر مالیاتی شراکت داروں کے ساتھ اشتراک کو فروغ دینا قرار دیا ہے، تاکہ ایس ایم ایز کی مالیاتی ضروریات بہتر طریقے سے پوری کی جا سکیں۔
رواں مالی سال کے دوران شرح سود میں نمایاں کمی کے بعد قرضوں کی فراہمی میں بہتری کی امید ہے۔
ایس ایم ایز نہ صرف ملکی برآمدات میں 25 فیصد حصہ ڈالتی ہیں بلکہ حکومت کے 60 ارب ڈالر برآمداتی ہدف کے حصول میں بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے اپنی پالیسی کا عوامی مشاورت کے لیے مسودہ جاری کر دیا ہے تاکہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ضوابط مزید ہم آہنگ کیے جا سکیں۔ وژن 2028 کے تحت مرکزی بینک آئندہ پانچ برسوں میں چھوٹے کاروباری اداروں کو دی جانے والی فنانسنگ کو 11 کھرب روپے تک بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
