بھارت کی آبی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب کے پانی میں مزید 6 ہزار کیوسک کی کمی واقع ہوگئی ہے۔ واپڈا کے ترجمان کے مطابق بھارت کی جانب سے دریائی پانی سے چھیڑ چھاڑ جاری ہے، جس سے دریائے چناب کی آمد اب صرف 19 ہزار 300 کیوسک رہ گئی ہے۔ صرف دو روز قبل یہی بہاؤ 38 ہزار کیوسک تھا۔
حج کے دوران چھتری کا استعمال لازمی، درجہ حرارت 10 ڈگری تک کم ہو سکتا ہے: سعودی حکام
اس سنگین صورتحال کے اثرات ملکی آبی ذخائر پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ قابل استعمال پانی کا ذخیرہ مزید کم ہو کر 40 لاکھ 44 ہزار ایکڑ فٹ پر آ گیا ہے، جو ایک دن میں 1 لاکھ 61 ہزار ایکڑ فٹ کی واضح کمی ہے۔
دیگر دریا بھی متاثر ہیں:
-
دریائے سندھ میں پانی کی آمد 4,600 کیوسک کی کمی کے بعد 76,800 کیوسک رہ گئی۔
-
دریائے جہلم میں معمولی بہتری، 600 کیوسک اضافے کے بعد 33,800 کیوسک۔
-
چشمہ بیراج میں 3,700 کیوسک کی کمی ریکارڈ۔
-
دریائے کابل میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 31 مئی تک دریائے چناب میں پانی کی آمد میں 91,600 کیوسک کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔