سندھ کے 23 اضلاع میں اسکولوں کی بجلی غیر متعلقہ افراد کو فراہم کیے جانے کا انکشاف

کراچی: محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کے تحت سکھر اور حیدرآباد ریجن کے 23 اضلاع میں اسکولوں کی بجلی غیر متعلقہ افراد کو فراہم کیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔

کراچی پولیس کی ایک ہفتے کے دوران مجرمان کے خلاف کامیاب کارروائیاں 1144 ملزمان گرفتار

محکمہ اسکول ایجوکیشن نے ان غیر قانونی کنیکشنز سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق، حیدرآباد ریجن میں حیسکو اور سکھر ریجن میں سیپکو کے تحت بعض اسکولوں کے بجلی کے بلوں میں غیر متعلقہ افراد کے استعمال شدہ یونٹس بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں محکمہ اسکول ایجوکیشن نے چیف انجنیئر ایجوکیشن ورکس کو خط لکھ کر کمیٹی میں فوری طور پر اپنا نمائندہ نامزد کرنے کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ شفاف تحقیقات کا آغاز کیا جا سکے۔

محکمہ تعلیم کا مؤقف ہے کہ یہ جانچ ضروری ہے کہ آیا بجلی کے کنیکشن غیر قانونی طور پر چوری کیے گئے یا محکمہ کے کسی اندرونی ملازم کی ملی بھگت سے دیے گئے۔

تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کے بعد 23 اضلاع میں اسکولوں کے بجلی کنیکشنز کی چھان بین کی جائے گی، اور یہ طے کیا گیا ہے کہ صرف اسکولوں کے اصل بل ہی ادا کیے جائیں گے۔ غیر متعلقہ افراد کے بلوں کی ادائیگی محکمہ نہیں کرے گا۔

One thought on “سندھ کے 23 اضلاع میں اسکولوں کی بجلی غیر متعلقہ افراد کو فراہم کیے جانے کا انکشاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!