کراچی (نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کیپٹیو پاور ٹیرف سے متعلق اہم اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزراء، اراکین اسمبلی، اعلیٰ حکام، صنعتی ماہرین اور کاروباری نمائندگان نے شرکت کی۔
ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن 11 ملزمان گرفتار
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پاور اویس لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثناء اللہ، ایم این ایز سید نوید قمر، مرزا اختیار بیگ، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، وفاقی و صوبائی سیکریٹریز، سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی اور ممتاز صنعتکاروں زبیر موتی والا، شبیر دیوان، جاوید بلوانی و دیگر شریک ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں تقریباً 600 کیپٹیو پاور پلانٹس موجود ہیں، جن کا ٹیرف بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم صنعتکار اس پر اعتراض رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کا دن خاص طور پر صنعتکاروں کی بات سننے کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ ان کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔
صنعتکاروں کے تحفظات:
صنعتکاروں نے واضح طور پر کہا کہ گیس کمپنیاں اضافی قیمتیں وصول کر رہی ہیں اور اگر مزید ٹیکسز لگائے گئے تو صنعتیں اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ کیپٹیو پاور پلانٹس بند کر کے وفاقی گرڈ سے بجلی حاصل کی جائے تو یہ ممکن نہیں کیونکہ گرڈ کی بجلی مستحکم نہیں۔
وفاقی وزراء کی بریفنگ:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف صنعتی ترقی کے لیے جامع پالیسیاں چاہتے ہیں۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے صدر آصف زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو کے پیغام کو دوہراتے ہوئے کہا کہ سندھ کے صنعتکاروں کے مسائل حل کرنا اولین ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر پاور اویس لغاری نے بتایا کہ صنعتی ٹیرف میں 30 فیصد کمی کی گئی ہے، اور 583 کیپٹیو پاور پلانٹس کو نیشنل گرڈ پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخرکار تمام کیپٹیو پلانٹس کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنا حکومت کا ہدف ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا مؤقف:
مراد علی شاہ نے کہا کہ گیس بند ہونے کی صورت میں اس گیس کو سندھ میں ہی رکھا جائے، اسے کسی اور جگہ منتقل نہ کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ فیصلے ایسے ہوں جو صارفین اور صنعتکاروں دونوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالیں۔
فیصلے:
وزیراعظم شہباز شریف کو صنعتکاروں کی تجاویز پیش کی جائیں گی۔
کیپٹیو پاور سے نیشنل گرڈ پر منتقلی کے درمیانی عرصے میں ٹیکس لگانے یا نہ لگانے پر کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
ٹیکس کے حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔
