کراچی کے ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے انکشاف کیا ہے کہ شہر میں جدید خود کار نمبر پلیٹ شناختی نظام فعال کردیا گیا ہے، جس کے تحت ایک ہی نمبر پلیٹ سے چلنے والی دو مختلف گاڑیوں کی فوری نشاندہی ممکن ہوگئی ہے۔ اس سسٹم سے چوری شدہ، نان کسٹم پیڈ یا جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑیاں کنٹرول روم میں رپورٹ ہو جائیں گی، جس سے گاڑیوں کی چوری اور چھیننے کی وارداتوں پر قابو پانے میں بڑی پیشرفت متوقع ہے۔
امرتسر: سکھ برادری نے مودی کے فالس فلیگ آپریشنز کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیا
اوڈھو نے کہا کہ پولیس کے مشاورتی گروپس مسلسل شہری مسائل کا جائزہ لے رہے ہیں، اور حکومت کو مؤثر تجاویز بھی پیش کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں چیلنجز بہت ہیں مگر پولیس اپنی جبلی کمزوریوں کے باوجود دن رات شہریوں کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔
انہوں نے حادثات کی تین بڑی وجوہات کی نشاندہی کی:
گاڑیوں کی عدم فٹنس
کمرشل گاڑیوں کی غیر متوازن باڈی
عوام خصوصاً موٹر سائیکل سواروں کی ٹریفک قوانین سے لاعلمی
اوڈھو کا کہنا تھا کہ حکومت نے گاڑیوں کی فٹنس فیس میں نمایاں کمی اور لسبیلہ جیسی سستی رجسٹریشن کو سندھ میں بھی متعارف کروا کر اس مسئلے پر قابو پایا ہے۔ اس کے علاوہ کمرشل گاڑیوں کو باڈی ڈیزائن بہتر بنانے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں تاکہ حادثات میں جانی نقصان کم سے کم ہو۔
اپنی گفتگو کے آخر میں اوڈھو نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستانی قوم نے ترقی تو کی مگر قومی وحدت حاصل نہ کر سکی۔
