نئی دہلی: بھارتی فوج میں اعلیٰ سطح پر بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے، جب ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی (DIA) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس رانا کو اچانک ان کے عہدے سے ہٹا کر دور دراز اور سخت سمجھے جانے والے علاقے، اندمان و نکوبار (کالاپانی) بھیج دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق جنرل رانا کا تبادلہ RAW کی وہ خفیہ دستاویزات لیک ہونے کے بعد کیا گیا جنہیں مزاحمتی تنظیم ٹی آر ایف نے حاصل کر کے دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ ان لیکڈ فائلز نے نہ صرف بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی RAW کو عالمی سطح پر شرمندگی سے دوچار کیا بلکہ مودی حکومت کے جھوٹے بیانیے کو بھی بے نقاب کیا۔
یہ دستاویزات مبینہ طور پر پہلگام فالز فلیگ آپریشن سے متعلق تھیں جن میں فوج اور سیکیورٹی اداروں کے جعلی آپریشنز میں کردار کو واضح کیا گیا تھا۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ لیکڈ دستاویزات جنرل رانا کے ذاتی تحویل میں تھیں اور انہی کے دفتر سے میڈیا تک پہنچیں۔
نتیجتاً، جنرل رانا کو فوری طور پر ڈی آئی اے کی سربراہی سے ہٹانے کا حکم جاری ہوا اور انہیں ایک ایسے فوجی اسٹیشن پر تعینات کیا گیا جو نہ صرف تنہائی کا شکار ہے بلکہ ناکافی سہولیات، بیماریوں کے خطرے اور سخت حالات کے لیے مشہور ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام بھارتی افواج کے اندر بداعتمادی اور ذہنی دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
جنرل رانا کی اس انداز میں بےعزتی اور اختیار سے محرومی بھارت کے فوجی و انٹیلیجنس حلقوں میں گہری تشویش اور اندرونی انتشار کا عندیہ دے رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر بھارت کے خلاف الزامات شدت اختیار کر رہے ہیں۔
