ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے کیٹی بندر میں چار روز قبل سمندر بچاؤ بند ٹوٹنے کے بعد سمندر کا پانی تیزی سے قریبی دیہات میں داخل ہوگیا، جس سے درجنوں مکانات زیر آب آ گئے ہیں اور سینکڑوں افراد گھروں تک محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق انڈس ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی فراہمی نہ ہونے کے باعث سمندر مسلسل اندرونِ زمین پیش قدمی کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں یونین کونسل کیٹی بندر کی تین دیہات — علی بخش جت، عثمان جت اور ہاشم جت — متاثر ہو چکے ہیں۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گھروں میں تین سے چار فٹ تک پانی جمع ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے روزمرہ کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ خوراک، پینے کے پانی اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جبکہ نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے انتظامیہ سے فوری امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمندر بچاؤ بند کی فوری مرمت اور بحالی نہ کی گئی تو نقصان کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے، اور دیگر قریبی دیہات بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
