ملیر لنک روڈ میدانِ جنگ بن گیا، وکلاء اور قوم پرست جماعتوں کا شدید احتجاج، پولیس پسپا

کراچی: شہر قائد میں صورتحال کشیدہ ہو گئی جب وکلاء اور قوم پرست جماعتوں نے ملیر لنک روڈ کو احتجاجاً بند کر دیا۔ پولیس نے فوری طور پر لنک روڈ پر بھاری نفری تعینات کر دی اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے واٹر کینن بھی موقع پر پہنچا دی گئی۔

پاک فوج کی زبردست کارروائی، افغانستان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام، 54 دہشت گرد واصلِ جہنم
وکلاء کی بڑی تعداد بن قاسم اور اسٹیل ٹاؤن تھانوں سے باہر نکل آئی اور لنک روڈ پر دھرنا دے دیا۔ گلشن حدید لنک روڈ پر مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہو گئی جس سے علاقے میں شدید بدنظمی پھیل گئی۔

وکلاء اور قوم پرست جماعتوں کے کارکنان کے درمیان تصادم کا سلسلہ جاری رہا۔ مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ حالات اس قدر بگڑ گئے کہ مشتعل مظاہرین نے ایک پولیس موبائل کو گھیر کر شدید توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔

مظاہرین نے وفاقی حکومت اور پولیس کے خلاف زبردست نعرے بازی کرتے ہوئے کینال منصوبے کا نوٹیفکیشن فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران مشتعل ہجوم نے نیشنل ہائی وے پر ٹائر جلا کر رکاوٹیں کھڑی کر دیں، جس کے باعث قومی شاہراہ مکمل طور پر بند ہو گئی اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔

دوسری جانب احتجاج کے دوران پولیس مکمل طور پر پسپائی کا شکار ہو گئی۔ مظاہرین نے پولیس موبائل کو گھیر کر مکمل تباہ کر دیا، اور پولیس اہلکار اپنی موبائل گاڑی چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے۔ بعد ازاں مشتعل افراد نے پولیس موبائل کو آگ لگا دی، جس سے صورت حال مزید کشیدہ ہو گئی۔

کراچی میں اس احتجاج کے باعث سیکیورٹی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے اور حکام نے حالات پر قابو پانے کے لیے اضافی نفری طلب کر لی ہے۔

58 / 100 SEO Score

One thought on “ملیر لنک روڈ میدانِ جنگ بن گیا، وکلاء اور قوم پرست جماعتوں کا شدید احتجاج، پولیس پسپا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!