نئی دہلی: بھارت کی دفاعی صلاحیت کے حوالے سے ایک اہم اعتراف سامنے آیا ہے جہاں بھارتی فوج کے سابق کور کمانڈر نے تسلیم کیا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ لڑنے کی نہ اہلیت رکھتا ہے اور نہ ہی مطلوبہ صلاحیت۔
ملیر لنک روڈ میدانِ جنگ بن گیا، وکلاء اور قوم پرست جماعتوں کا شدید احتجاج، پولیس پسپا
سابق کور کمانڈر کا کہنا تھا کہ بھارت کو تکنیکی برتری حاصل نہیں ہے جو کسی بھی جنگی کارروائی کو بغیر کسی خوف کے سرانجام دینے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسی تکنیکی طاقت امریکہ جیسی سپر پاور کو حاصل ہے، وہ بھارت کے پاس موجود نہیں۔
سابق بھارتی کور کمانڈر نے واضح طور پر کہا کہ بھارت کے پاس نہ میزائلوں کی وہ طاقت ہے، نہ ڈرونز کی برتری، نہ فضائیہ میں برتری ہے اور نہ ہی بحری افواج میں کوئی ایسا دبدبہ ہے کہ وہ کسی خوف کے بغیر پاکستان کے خلاف یکطرفہ کارروائی کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگیں ہمیشہ دو طرفہ ہوتی ہیں، کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر جنگ چھیڑ کر محفوظ نہیں رہ سکتا، اور پاکستان یقینی طور پر کسی بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق بھارتی کور کمانڈر کا یہ بیان بھارتی عسکری منصوبہ سازوں کے لیے ایک تلخ حقیقت ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے حقیقی زمینی حقائق سے واقفیت رکھنے والا کور کمانڈر اگر ایسی بات کر رہا ہے تو یہ بھارت کی جنگی تیاریوں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ بھارت کی بڑھکوں اور پروپیگنڈے کے برعکس، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی عسکری صلاحیت اور دفاعی تیاری بھارت پر واضح برتری رکھتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے اندر موجود سنجیدہ اور تجربہ کار حلقے اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کی مہم جوئی بھارت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
اس اعتراف کے بعد بھارت کے اندر عسکری اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا موجودہ حکومتی قیادت محض سیاسی مقاصد کے لیے جنگی نعروں کا سہارا لے رہی ہے یا پھر حقیقتاً کوئی موثر حکمت عملی موجود ہے۔
پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان عالمی سطح پر بھی بھارت کے جارحانہ عزائم کی قلعی کھولتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
