اسلام آباد: وزارت آبی وسائل کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے پہلگام واقعے سے قبل ہی سندھ طاس معاہدے میں اپنی مرضی کی ترامیم کے لیے کوششیں شروع کر دی تھیں۔
پاکستان سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ملک ہے، سرمایہ کاروں کے تحفظ کی مکمل ضمانت دیں گے: محسن نقوی
ذرائع کے مطابق بھارت نے معاہدے میں تبدیلی کے لیے پاکستان کو اب تک پانچ بار خطوط بھیجے ہیں۔ بھارتی کوششوں کا مقصد مغربی دریاؤں پر اپنی مرضی کے ڈیزائن کے مطابق ڈیم تعمیر کرنا تھا۔ اس سلسلے میں بھارت نے معاہدے کے آرٹیکل 9 میں ترمیم کے لیے پاکستان سے رابطہ کیا، جس کے تحت کسی بھی فریق کو تنازعے کی صورت میں تیسرے فریق سے رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
وزارت آبی وسائل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کے اعلانات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ اگر بھارت نے کوئی عملی قدم اٹھایا تو بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 9 کے تحت تیسرے فریق کے پاس جانے کا آپشن بھارت کے مؤقف کو کمزور کرتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی کشن گنگا اور رتلے ڈیم کے ڈیزائن کو عالمی فورمز پر چیلنج کر چکا ہے۔
