نواب شاہ (تشکر نیوز) – نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ اور جی ڈی اے کے مرکزی رہنما، سابق وفاقی وزیر غلام مرتضٰی جتوئی نے سیاسی میدان میں واپسی کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق انہیں گرین سگنل ملنے کے بعد وہ جلد نواب شاہ کا اہم دورہ کریں گے، جسے مقامی اور قومی سطح پر ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دورہ نواب شاہ کے دوران غلام مرتضٰی جتوئی مختلف مقامات پر تعزیت کے لیے جائیں گے۔ وہ خیر شاہ، غلام رسول شاہ کالونی، اور ایسرپورہ لیاقت آباد سمیت دیگر علاقوں میں اپنے سیاسی و سماجی رفقاء کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ ان کا اپنے دیرینہ دوست اور پولیٹیکل ایڈوائزر کامران ابڑو کے انتقال پر ان کے اہلخانہ سے تعزیت کرنا بھی پروگرام کا اہم حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق غلام مرتضٰی جتوئی آئندہ عام انتخابات میں نواب شاہ سے صدر آصف علی زرداری کے مد مقابل انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)، قوم پرست جماعتوں، ایم کیو ایم پاکستان اور جی ڈی اے سمیت مختلف سیاسی قوتوں سے الحاق کرنے کے لیے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق، اگر جتوئی اپنا فیصلہ عملی جامہ پہناتے ہیں تو نواب شاہ کی سیاست میں ایک نیا باب کھل سکتا ہے، جہاں کئی دہائیوں سے پیپلز پارٹی کا غلبہ رہا ہے۔ ان کے اس اقدام سے نہ صرف جی ڈی اے کی سیاسی حیثیت مستحکم ہو سکتی ہے بلکہ سندھ کی سیاست میں بھی نیا رخ پیدا ہو سکتا ہے
