کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں کی جانب سے نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کی ایف سی کانوائے پر خوفناک حملہ کیا گیا، جس میں بارودی دھماکے اور خود کش حملے شامل تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، دہشت گردوں نے صبح کے وقت ایف سی کانوائے کو نشانہ بنایا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے فوری اور موثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک خود کش حملہ آور سمیت چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
سندھ ہائی کورٹ کی ایس بی سی اے کو شہریوں کی شکایات کے اندراج کے لیے آن لائن پورٹل بنانے کی ہدایت
حملے کے نتیجے میں ایف سی کے تین جوان اور دو معصوم شہری شہید ہو گئے، جبکہ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر نوشکی سے کوئٹہ کے سی ایم ایچ اسپتال منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹرز پہنچ گئے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق، تمام ممکنہ راستوں کو بند کر دیا گیا ہے تاکہ کوئی دہشت گرد فرار نہ ہو سکے، اور یہ آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا ردعمل:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ بلوچستان کے امن سے کھیلنے والوں کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بزدلانہ کارروائیاں سیکیورٹی فورسز اور قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے لیے بلوچستان میں کوئی جگہ نہیں، ہر قیمت پر امن قائم کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان:
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی نوشکی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ محسن نقوی نے کہا کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا انتہائی بزدلانہ اور قابل مذمت عمل ہے، اور دشمن کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا اظہار افسوس:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نوشکی دھماکے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وطن کے لیے قربان ہونے والے جوانوں کی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ مریم نواز نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور زخمیوں کی صحتیابی کی دعا بھی کی۔
ریسکیو اور تحقیقات جاری:
سیکیورٹی ادارے جائے وقوعہ پر موجود ہیں، علاقے کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی مزید خطرے کو ناکام بنایا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی آپریشن مکمل ہوگا۔
