درخشاں تھانے کی حدود میں ڈکیتی کی واردات، 24 گھنٹے بعد بھی پولیس ڈاکو گرفتار نہ کر سکی، متاثرہ شہری کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کراچی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے فیز 5 میں درخشاں تھانے کی حدود میں ہونے والی ڈکیتی کی واردات کی فوٹیج سامنے آنے کے باوجود 24 گھنٹے گزر گئے، لیکن پولیس تاحال ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔
شاہراہِ نورجہاں: پولیس اہلکار کی پھل فروش سے بدتمیزی، ایس ایس پی سینٹرل کی پھل فروش سے ملاقات، اہلکار معطل و برطرف

تفصیلات کے مطابق:
معروف کرائم رپورٹر اکرم خان کے والد کو تین مسلح ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر لوٹ لیا۔

ڈاکو موبائل فون، موٹر سائیکل، اور 50,000 روپے نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔

واردات کی واضح ویڈیو فوٹیج بھی سامنے آ چکی ہے، جس میں ڈاکوؤں کے چہرے اور کارروائی صاف دیکھی جا سکتی ہے، مگر اس کے باوجود پولیس مجرمان کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔

اکرم خان کا کہنا ہے کہ:

"ڈی ایچ اے فیز 5 میں سی پی ایل سی (CPLC) کے کیمرے نصب ہیں، مگر درخشاں پولیس صرف وقت ضائع کر رہی ہے۔”

اکرم خان نے مزید کہا کہ آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ ڈیفنس جیسے علاقوں میں جدید کیمروں کی مدد سے جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے، لیکن 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود پولیس ڈاکوؤں کا سراغ نہ لگا سکی۔

اکرم خان نے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ساؤتھ، اور ایس ایس پی ساؤتھ سے فوری نوٹس لینے اور ڈاکوؤں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

شہری حلقوں نے بھی اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیفنس جیسے حساس علاقے میں بھی اگر پولیس ڈاکوؤں کو نہ پکڑ سکے تو عوام کی جان و مال کس طرح محفوظ رہ سکتی ہے؟

56 / 100 SEO Score

One thought on “درخشاں تھانے کی حدود میں ڈکیتی کی واردات، 24 گھنٹے بعد بھی پولیس ڈاکو گرفتار نہ کر سکی، متاثرہ شہری کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!