کراچی: شہر میں خسرہ کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا، درجنوں بچے مختلف سرکاری اسپتالوں میں داخل کیے جا چکے ہیں۔
نیب سندھ کی بڑی کارروائی، بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹیز منجمد
سندھ انفیکشیئس ڈیزیز اسپتال نیپا کا آئسولیشن وارڈ مکمل طور پر خسرہ سے متاثرہ بچوں سے بھر گیا ہے۔ شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں جن میں قومی ادارہ برائے اطفال، سول اسپتال، عباسی شہید اسپتال، قطر اسپتال اور سندھ انفیکشیئس ڈیزیز اسپتال شامل ہیں، میں روزانہ درجنوں نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
طبی ماہرین نے خسرہ کے بڑھتے ہوئے کیسز کی بڑی وجہ والدین کی عدم آگاہی اور بچوں کو بروقت ویکسین نہ لگوانے کو قرار دیا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق خسرہ کی علامات میں تیز بخار، شدید کھانسی، آنکھوں سے پانی آنا اور جسم پر سرخ دانوں کا نمودار ہونا شامل ہیں، جو وائرس لگنے کے 21 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ اس دوران متاثرہ بچہ دوسرے بچوں میں وائرس منتقل کر چکا ہوتا ہے۔
طبی ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ خسرہ کی علامات ظاہر ہونے پر گھریلو علاج یا ٹوٹکوں کے بجائے فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ویکسینیشن مکمل کروائیں تاکہ بیماری پر قابو پایا جا سکے۔
