سینٹرل جیل میں قائم انسداد دہشت گردی عدالت میں مصطفیٰ عامر اغوا اور قتل کیس کی سماعت ہوئی، جس میں ملزم ارمغان اور شیراز کو پیش کیا گیا۔ عدالت نے مرکزی ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ میں 6 دن کی توسیع کردی جبکہ شریک ملزم شیراز کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت پر پراپیگنڈہ، انہیں مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں: عظمیٰ بخاری
یاد رہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، اور 25 جنوری کو مقتول کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہوئی تھی۔ بعد ازاں، اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) نے 9 فروری کو ملزم ارمغان کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا، جہاں ملزم نے پولیس پر فائرنگ کی، جس میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگئے۔ کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
تفتیش کے دوران ملزم نے پہلے دعویٰ کیا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرکے لاش ملیر میں پھینک دی تھی، لیکن بعد میں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا۔ پولیس کی مشترکہ کارروائی کے بعد ملزم شیراز کو بھی گرفتار کیا گیا، جس نے اعتراف کیا کہ ارمغان نے مصطفیٰ کو تشدد کرکے قتل کیا اور لاش کو حب لے جا کر جلا دیا تھا۔ پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی برآمد کرلی تھی جبکہ حب پولیس پہلے ہی لاش کو رفاہی ادارے کے حوالے کرچکی تھی۔
عدالت نے مقتول کی لاش کے ڈی این اے نمونے لینے اور پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کشائی کا حکم جاری کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق مصطفیٰ اور ارمغان کے درمیان جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی۔ انٹرپول کے ذریعے لڑکی سے رابطہ کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کا بیان کیس کے لیے ضروری ہے۔
