بحالی طلبہ یونین پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد، حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ریجن کے زیر اہتمام المصطفیٰ ہاؤس کراچی میں ’بحالی طلبہ یونین و جامعات میں بیوروکریسی کی مداخلت‘ کے موضوع پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی۔
جوڈیشل کمیشن اجلاس: ججز کا بائیکاٹ اور وکلا کا احتجاج جاری

کانفرنس میں اسلامی جمعیت طلبہ، انجمن طلبا اسلام، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن، جمیعت طلبا اسلام سمیت مختلف طلبہ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ
کانفرنس میں مقررین نے طلبہ یونین کی فوری بحالی اور طلبہ کے جمہوری حقوق کی بحالی پر زور دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ طلبہ یونین تعلیمی اداروں میں جمہوریت کی نرسری ہوتی ہے اور اس پر پابندی نوجوانوں کے سیاسی اور سماجی حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔

حکومتی اقدامات کی ضرورت
شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ یونین کی بحالی کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں اور ان انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے۔

سندھ اسمبلی کی قرارداد پر تحفظات
کانفرنس میں سندھ اسمبلی کی جانب سے طلبہ یونین کی بحالی کی قرارداد کو مسترد کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس اقدام کو طلبہ دشمن قرار دیا اور کہا کہ طلبہ یونین کی بحالی نہ صرف طلبہ کے مسائل حل کرنے میں مددگار ہوگی بلکہ ملک میں جمہوری کلچر کو فروغ دے گی۔

مشترکہ اعلامیہ
کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں درج ذیل نکات شامل تھے:

طلبہ یونین پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے۔

جامعات میں طلبہ کی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔

بیوروکریسی کی مداخلت ختم کی جائے۔

طلبہ یونین کے انتخابات غیر جانبدار اور شفاف طریقے سے منعقد کیے جائیں۔

طلبہ کے سیاسی اور جمہوری حقوق مکمل طور پر بحال کیے جائیں۔

رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر طلبہ یونین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔

One thought on “بحالی طلبہ یونین پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد، حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!