جوڈیشل کمیشن اجلاس: ججز کا بائیکاٹ اور وکلا کا احتجاج جاری

ذرائع نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر، نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور اس میں شریک نہیں ہوئے۔
دبئی ساؤتھ: جدید ماسٹر ڈیولپمنٹ، ایئرپورٹ سٹی اور مستقبل کے مواقع

جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تقرری کے لیے 25 ناموں پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں تمام ہائی کورٹس کے 5 سینئر ترین ججز کے نام شامل ہیں۔

اجلاس موخر کرنے کے مطالبات
یاد رہے کہ اجلاس سے چند روز قبل سپریم کورٹ کے 4 ججز، جن میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر بھی شامل ہیں، نے چیف جسٹس کو اجلاس موخر کرنے کے لیے خط لکھا تھا۔ کمیشن کے رکن اور پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر علی ظفر نے بھی اسی حوالے سے مشروط طور پر اجلاس موخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سینیٹر علی ظفر کے خط میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی سنیارٹی کا مسئلہ حل ہونے تک اجلاس مؤخر کیا جائے۔ خط میں مزید کہا گیا تھا کہ ججز کے ٹرانسفر کے باعث اسلام آباد ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ متاثر ہوئی ہے اور یہ تبادلے ایک مخصوص تاثر پیدا کرتے ہیں، جس کا تعلق پی ٹی آئی کے بانی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

وکلا کا احتجاج
دوسری جانب، وکلا ایکشن کمیٹی کی جانب سے 26 ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف احتجاج جاری ہے۔

وکلا نے سپریم کورٹ کی طرف مارچ کرتے ہوئے سرینا چوک تک پہنچنے کی کوشش کی، لیکن انتظامیہ نے سرینا چوک کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا تھا اور ریڈ زون کو مکمل سیل کیا ہوا تھا۔ اس دوران وکلا اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی، اور پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا۔

پولیس کی کارروائی کے بعد احتجاجی وکلا منتشر ہو گئے اور سری نگر ہائی وے پر دھرنا دیا، تاہم پولیس نے وہاں بھی انہیں منتشر کر دیا۔ وکلا نے بعد ازاں ڈی چوک پر پہنچ کر دھرنا دیا، جہاں مظاہرے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

One thought on “جوڈیشل کمیشن اجلاس: ججز کا بائیکاٹ اور وکلا کا احتجاج جاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!