پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے شاد باغ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران عبدالرحمٰن نامی نوجوان حادثاتی طور پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف: تحریک انصاف مذاکرات سے بھاگ گئی، ملک انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا
پولیس حکام کے مطابق:
عبدالرحمٰن وسن پورہ میں اپنے ماموں کے گھر آیا ہوا تھا۔
پستول کے ساتھ ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران پستول اچانک چل گیا، جس سے نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا، لیکن اہل خانہ نے کسی بھی قانونی کارروائی سے انکار کر دیا ہے۔
ماضی کے واقعات:
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کے دوران جان لیوا حادثہ پیش آیا ہو:
مئی 2024 میں کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں نوجوان عبداللہ گولی لگنے سے جاں بحق ہوا تھا۔
واقعے کی ایف آئی آر والد محمد علی کی مدعیت میں درج کی گئی، جس کے مطابق عبداللہ پیپر دینے کے بعد نماز کے لیے نکلا اور پھر کال سینٹر میں ویڈیو بناتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا۔
تحقیقات اور سماجی تشویش:
پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نوجوانوں کی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں اور خطرناک چیلنجز کی طرف رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین اور والدین نے ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر کنٹرول اور شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ان حادثات کو روکا جا سکے۔
تجزیہ:
یہ حادثات صرف ایک نوجوان کی زندگی ختم نہیں کرتے بلکہ خاندانوں کے لیے ناقابل برداشت دکھ کا باعث بنتے ہیں۔ ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال میں محتاط رویے، تعلیم، اور حفاظتی تدابیر کی سخت ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
