وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے تحریک انصاف کی مذاکرات کی پیشکش کو خوش دلی سے قبول کیا تھا اور اسپیکر کے توسط سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا۔
علی بابا کا نیا اے آئی ماڈل کیوین 2.5، ڈیپ سیک کو پیچھے چھوڑنے کا دعویٰ
انہوں نے بتایا کہ حکومتی کمیٹی کے مطالبے پر تحریک انصاف نے اپنے تحریری مطالبات پیش کیے، جس پر حکومت نے انہیں تحریری جواب دینے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن 28 تاریخ کی ملاقات سے پہلے
تحریک انصاف نے انکار کرکے مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کرلی۔
وزیراعظم کے بیانات:
وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف کو مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے اور حکومت مکمل سنجیدگی سے مسائل کا حل چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد بھی عمران خان نے پارلیمانی کمیٹی کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ کمیٹی موثر طریقے سے اپنا کام نہ کر سکی۔
شہباز شریف نے 2024 کے انتخابات کے لیے ہاؤس کمیٹی کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی 2014 کے دھرنے سمیت دیگر معاملات کا بھی جائزہ لے۔
اقتصادی امور پر تبصرہ:
وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک کی شرح سود میں 1 فیصد کمی کا خیر مقدم کیا لیکن کہا کہ یہ کمی 2 فیصد ہونی چاہیے تھی تاکہ صنعت اور کاروبار کو زیادہ فائدہ ہو۔
انسانی اسمگلنگ اور دیگر مسائل:
وزیراعظم نے انسانی اسمگلنگ کو پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ اس دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
شہداء کو خراجِ عقیدت:
شہباز شریف نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران شہید ہونے والے میجر حمزہ اسرار اور سپاہی محمد نعیم کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی قربانی کو قوم کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔
تجزیہ:
وزیراعظم کے بیانات تحریک انصاف کے ساتھ مذاکراتی عمل میں جاری سیاسی تناؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اقتصادی اور انسانی اسمگلنگ جیسے معاملات پر ان کی توجہ معاشی اور سماجی استحکام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
