تشکر نیوز: آڈٹ جنرل کی جانب سے مالی سال 2022-23 کی کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کی رپورٹ میں 32 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چھ سالوں سے مختلف محکموں کو 71 اسکوائر یارڈ کی پراپرٹی بغیر کرائے کے دی گئی ہے۔
نیو کراچی ٹاؤن میں جراثیم کش اسپرے مہم کا آغاز، صحت مند ماحول کی فراہمی کا عزم
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سات سالوں کے دوران 7956 سرکاری پلاٹ اور 74 فلیٹوں پر غیر قانونی قبضہ ختم کرانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید برآں، ٹریفک سگنلز کی مرمت کے لیے 94 لاکھ روپے کا خرچ کیا گیا، حالانکہ یہ کام اصل میں کنٹونمنٹ کی حدود میں کیا گیا تھا۔
سال 2021-22 میں نیلام کیے گئے فلیٹ اور دکانوں کے بقایاجات وصول کرنے میں 3 کروڑ روپے کی ناکامی بھی رپورٹ میں شامل ہے۔ اسی طرح، ٹریفک سگنلز کی تنصیب اور مرمت کے دوران 3 کروڑ 46 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واٹر سپلائی اور سیوریج کے 12 کروڑ روپے کے ٹھیکے بغیر منظوری کے دیے گئے، جبکہ ملازمین کو 13 کروڑ روپے کے غیر قانونی الائونس بھی فراہم کیے گئے۔ ان مالی بے ضابطگیوں کی وجہ سے کے ڈی اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
